جنگ آزادی:جہلم- ۶ جولائی ۱۸۵۷ء

جنگ آزادی:جہلم- ۶ جولائی ۱۸۵۷ء

جیسے ہی باغی سپاہیوں نے فائرنگ شروع کی افسر اور سکھ کامریڈ، یورپیوں کی طرف بھاگے۔ Multani Horse کو حملے کے احکا مات دیے گئے مگر باغی سپاہی برآ مدے، کوارٹر گارڈ کی چھت اور اپنے کمروں میں آڑ لے چکیتھے دس منٹ جاری رہنے والے اس مختصر مقابلے میں ۲۴۰ حملہ آوروں میں سے ۹ مارے گئے جبکہ ۲۸ زخمی ہوگئے۔ آرٹلری اور انفنٹری دشمن کی مدد کیلئے آگئی تھیں انقلابی شدید دباؤ کا مقابلہ کرتیرہے لیکن بالآخر انہیں ۳۹ رجمنٹ کی لائنز کی طرف جانے کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ رجمنٹ کے اسلحے کا گودام جل جانے کے باعث وہ یہاں زیادہ دیر نہیں رک سکتے تھے لہٰذا وہ گاؤں Saemlee کی طرف چلے گئے۔

شام کے تقریباً ۵ بجے لڑائی پھر سے شروع ہوئی آرٹلری گاؤں کے نہایت نزدیک سب سے آگے موجود تھی لہٰذا باغی سپاہی، گولہ اندازوں کو انتہائی مہلک درستگی سے نشانہ بنا سکتے تھے جبکہ دشمن کی جانب سے کیا جانے والا فائر گھروں کی دیواروں پر خرچ ہو رہا تھا۔ گھوڑوں اور آدمیوں کی تیزی سے ہلاکت اور اسلحہ کی کمیابی کے باعث پیچھے ہٹ جانے کے احکا مات جاری ہوئے انقلابیوں نے گاؤں سے باہر نکل کر حملہ کیا اور اس توپ پرقبضہ کرلیا جو دشمن اپنے پیچھے چھوڑ گیا تھا۔ رات ہوجانے کے باعث برطانوی فوج نے گاؤں کا محاصرہ کرنے کی مزید کوئی کوشش نہیں کی۔ اگلی صبح انقلابی گاؤں خالی کرکے دریا کی طرف چلے گئے وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ پل اور کشتیاں زمینداروں کے قبضے میں تھیں جو ان کے دشمن کے خیر خواہ تھے انہوں نے نجی کشتیوں کے ذریعے مختلف سمتوں میں منتشر ہونا چاہا مگر اس کوشش میں ان میں سیکئی پکڑے گئے جنہیں پھانسی دے دی گئی۔ اسطرح ۱۴ این آئی تباہ ہوگئی اور ایک ہی دن میں برطانوی حکومت کو ہونے والے نقصان میں ۴۴ افسران و سپاہی ہلاک اور ۱۰۹ زخمی شامل تھے۔

خوب

تفصیل طلب ہے۔حوالہ بتائیں۔ :)