نورالدین زنگی اور صلیبی افواج:۱۱۷۴-۱۱۴۷ء

نورالدین زنگی اور صلیبی افواج:۱۱۷۴-۱۱۴۷ء
پہلی صلیبی جنگ کے بعد مسلمان کافی کمزور پوزیشن میں تھے مسلم دنیا یہ سمجھنا شروع کر چکی تھی کہ اس کی ریاستوں میں اجنبیت پائی جاتی ہے تاہم یہ بات بھی نہیں بھولنی چاھیئے کہ مسلم ریاست کاشغر سے کوردووا تک پہلے کی طرح ایک مسلسل سرحد کی حامل نہیں تھی۔ عماد الدین زنگی نے مغرب کی طرف پیش قدمی کی اور رفتہ رفتہ Mosul اور Aleppo کے درمیانی علاقے کا ماہر بن گیاوہ ایک مضبوط انسان اور بے خوف جنگجو تھاجو کہ بہت جلد عیسائیوں سے ٹکرانے والا تھاعماد الدین زنگی نے ال روحہ قصبے پر قبضہ کرلیا جو کہ شام سے بغداد کے راستے میں واقع تھا اور عیسائیوں کی زیر حکومت تھا۔

ال روحہ کی شکست کی خبر پوپ یوجینیس سوم نے پریشانی کے ساتھ وصول کی اور دوسری صلیبی جنگ کی تیاریاں کر لی گئیں جرمن شہنشاہ کونراڈ سوم اور فرانس کے بادشاہ لوئس ہفتم نے پوپ کی آواز پر لبیک کہا صلیبی افواج نے دمشق کا محاصرہ کرلیا تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے اسی دوران سسلی کے بادشاہ نے دریائے Aegean میں مسلم جزیروں پر حملہ کردیا اور وہاں سے مسلمانوں کو باہر نکال دیااس سے مسلمانوں کی عظمت و اقتدار کو شدید دھچکا پہنچا اور وسیع پیمانے پر اسکے خلاف غصے کا اظہار کیا گیا۔ عمادالدین کے باصلاحیت بیٹے نورالدین زنگی نے ۱۱۴۶ء میں اپنے والد کی جگہ لی اور جلد ہی تیاریوں کے ساتھ عیسائیوں کے خلاف جنگوں کا آغاز کیااس نے ال روحہ کے پورے علاقے پر قبضہ کرکے وہاں کے گورنر کاؤنٹ جوسلن دوم کو گرفتار کرلیابعد ازاں انہوں نے Antioch کے حکمران Bohemud II پر حملہ کرکے وہاں بھی قبضہ کرلیا غرض نور الدین زنگی عیسائیوں کیلئے دہشت کی علامت بن چکے تھے۔۱۱۷۴ء میں آپ کا انتقال ہوگیا۔

normal urdu font

i am not getting normal urdu font on my monitor. please tell me how i can get it