tanveeralamqasmi's blog

8 Nov 2007
 

 

  بقلم تنویر عالم قاسمی   پاکستان میں ایمرجنسی کے اسباب . . . . . کیا یہ صحیح ہیں ؟ ؟ ؟   دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کی بنیاد اسلام اور مسلمانوں کے نام پر رکھی گئی ہے، اس کا اصلی نام “ اسلامی جمہویہ پاکستان ،،ہے اس کی بنیاد میں ان بے گناہ لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے جو تقسیم ہند کے وقت فرقہ وارانہ فسادات کا شکار ہوے تھے۔ ہماری گذشتہ نسل نے اپنے جگر کے ٹکڑوں ، گھر اور اپنے اثاثوں کے درمیان ایک لکیر کھینچتے ہوے خاموشی سے دیکھی تھی ، اپنے ہی جسم کو بوٹیوں میں بٹنے کی تکلیف برداشت کی سرحد کے آر پار تقسیم کا خونی منظر اسلئے دیکھا کیوں کہ وہ سمجھتے کہ پاکستان کی شکل میں ایک ایسا ملک وجود میں آنے والا ہے جو اسلامی قوانین ، شریعت محمدی ، اور آئین خدا وندی کا نفاذ کرکے دنیا کے سامنے ایک ایسی مملکت کا خاکہ پیش کریگاجس میں صرف اور صرف اسلام ہوگا، اسلام کی جھلک ہوگی ، ساری دنیا میں ایک انمول نمونہ بنے گا اور اسلام کی ایک نئی اور خوشنما تاریخ مرتب ہوگی۔ انہیں امیدوں کے سہارے اپنی بسی بسائی دنیا اپنے ہی ہاتھوں سے اجاڑ کر اپنے خوابیدہ وطن پاکستان پہنچ گئے، وہ یہ سوچ رہے تھے کہ اب ہمیشہ کی فرقہ وارانہ کشیدگی ،آپسی اختلافات اور خون خرابے سے نجات مل جائے گی لیکن پا کستا ن کی 60 سالہ تاریخ شاہد ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔
18 Oct 2007

 ہندوستان کے دینی مدارس کے طلبہ کوامریکی دعوت ۔۔۔ پردے کے پیچھے کا راز کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ؟بقلم خاص :تنویر عالم قاسمی ہندوستانی مدرسوں کی مثبت کردارکی وجہ سے دنیا میں شہرت ہے اور عوام کے درمیان بھرپورمقبولیت حاصل ہے لیکن امریکا کو یہ سب بالکل پسند نہیں وہ نہیں چاہتا کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں مسلمان متحد اور امن و امان سے رہے ای وجہ سے اب امریکا کا اگلا نشانہ ہندوستانی مدرسے ہیں جنہیں وہ اپنے نیا فارمولا Divide and Perish یعنی“ پھوٹ ڈالو اور برباد کردو ،، کے تحت ہندوستان میں مسلما نوں کا اسلامی قلعہ سمجھے جانے والے اسلامی مدرسوں کے درمیان مسلکی اختلاف کو ہو دینا چاہتی ہے اور عوام کے درمیان ان کی مقبولیت ختم کرنا چاہتی ہے، اسی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے امریکا کی حکومت ہندوستانی مدرسوں کے طالب علموں کے ایک وفد کو اپنے ملک میں مدعو کر رہی ہےاور اس دعوت کے بہانے امریکی حکومت ان کے دماغوں میں زہر بھرنے کی فکر میں لگی ہے ،تاکہ وہ امریکا سے واپس آنے کے بعد اسلام دشمنوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن کرمدرسوں اور عوام کے درمیان گہری خلیج پیدا کی جاسکے ۔اس دعوت میں کن مدرسوں کے طالب علموں کو مدعو کیا گیا ہے ؟ کون کون لوگ جائینگے ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا ہے،لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ جانے کے خواہشمند لوگوں کی کمی نہیں ہے، بہت سے لوگ ابھی سےہی امریکی سفارت خانے کا چکر کاٹ رہے ہونگے،کیوں کہ ہمارے ملک میں امریکا وبرطانیہ کا دورہ کرکے آنے والے لوگوں کو کافی اہمیت دیجاتی ہےاوران کو قابل اور روشن خیال تصور کیا جاتاہے ان ممالک میں ہونے والے جلسے وجلوس اور کانفرنسوں میں شمولیت کو بڑی سعادت کا درجہ رکھتا ہے،اس لئے کچھ لوگ اس کو خدا کی دی ہوی ایک عظیم نعمت تصور کرتے ہیں ،لیکن اس کے باوجود عوام اسلئے کوئی آواز نہیں اٹھاتی کیوں کہ ان ممالک میں بسنے والے ایشیائی باشندے ہی ان تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر یہ محفلیں مذہبی نوعیت کی ہوتی ہیں لیکن یہ معاملہ یکسر مختلف ہے اس بار امریکی حکومت کی طرف سے دینی مدرسوں کے طلبہ کو دعوت دی جارہی ہے، خالانکہ یہ بات دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کے صدر بش مدارس اسلا میہ کو “ دہشت گردوں کی فیکٹری “ قرار دے چکے ہیں، اب مدرسوں پر یہ مہر بانی کیوں ؟ اس دعوت کے پیچھے کا راز کیا ہے اس پر غور کرنا ضروری ہے۔اسرائیل کی دو تنظیموں نے اگست کے مہینے میں جس مقصد کیلئے ہندوستان کے کچھ مسلمانوں کو بلایا تھا لیکن اسرائیل جانے والا وفد قوم کوکوئی نقصان یا اسرائیل کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکا لیکن اب جس گروہ کو دعوت دی جارہی ہے اس کا استعمال امریکی مقاصد کے حصول کیلئے ہی کیا جاسکتاہے اور قوم کی روح پر کاری زخم لگئے جاسکتے ہیں، باوثوق ذرائع کے مطابقامریکا کی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ کوشش ہورہی ہے کہ ایسے دینی مدارس کے طلبہ کو ہی بلایا جائے جن کے مہتمم وذمہ دار امریکا کے معاملے میں مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح تو خاموش رہتے ہیں لیکن مسلمانوں میں مسلکی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دینے میں کبھی نہیں چوکتے ۔واضح رہے کہ امریکہ کی طرف سے مسلمانوں کے درمیان مسلکی اور گروہی اختلافات کو ہوادینےوالے ہر ایک خود ساختہ علامہ کو بڑی بڑی رقومات فراہم کی جاتی ہیں( جس کا زندہ مثا ل “ الرسالہ “ کے مدیر مولانا وحید الدین خان دہلی ہیں ،)تاکہ وہ اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں‌کے خلاف برسرپیکار ہونے پر امادہ کرے، امریکی حکومت کی جانب سے ایسے علماء اور خطباء کوویزا دیئے جانےسے انکار کردیا جاتاہے جو مسلمانوں میں اتحادو اتفاق کی کوشش میں لگے ہیں ،اور ایسے ملا ؤں کو اسانی سے ویزا دیدیا جاتاہے جو مسلمانوں کے درمیان اختلاف پھیلانے والی کتابیں لکھتے ہیں‌یا مجلسوں اور محفلوں میں دوسرے فرقہ کے عقائد پر چوٹ کرتے ہیں‌،ایسے ملا ؤں کو بھی ویزا آ سانی سے مل جاتا ہے جو امریکہ کی پالیسیوں کی نکتہ چینی نہیں کرتے۔اصل میں‌امریکا اور اسرائیل کی طرف سے لگار تار یہ کوشش ہورہی ہے کہ مسلمانوں میں مسلکی اختلافا ت کو ہوا دیکرانہیں آپس میں لڑواکر اسلام کو نقصان پہنچایا جائے۔ماضی میں‌بھی یہی کوششسیں رہیں۔دینی مدرسوں‌کے طلبہ کو امریکا کے دورے کی دعوت کا نیا سلسلہ شروع کرکے امریکا نے ہمارے معاشرے میں کو ئی نیا گل کھلانی ضرور رچ لی ہے اسلئے تمام مدارس کے ذمہ داران اور مہتمم حضرات کو امریکا کی حکومت کی جانب سے دورے کی دعوت قبول کرنے سے قبل یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا ہوگی کہ امریکا کا ساتھ دینا ایک ایسا جرم ہے جس کے لئے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی بھی معاف نہ کرے۔تنویر عالم قاسمیtanveeralamqasmi@yahoo.co.inخط وکتابت کا پتہ:#42,Nandi Durga Road, Bangalore46ٰIndia-91

Subscribe to RSS - tanveeralamqasmi's blog