mmubin's blog

19 Oct 2005

افسانہ

شیرنی

از:۔ ایم مبین

جب وہ گھر سےنکلی تو نو بج رہےتھے۔ تیز لوکل تو ملنےسےرہی دھیمی لوکل سےہی جانا پڑےگا ۔ وہ بھی وقت پر مل گئی تو ٹھیک ۔ ورنہ یہ تو طےہےکہ آج پھر تاخیر سےآفس پہنچےگی ۔ اور لیٹ آفس آنےکا مطلب ؟ اس خیال کےساتھ ہی اس کی پیشانی پر بل پڑ گئےاور بھویں تن گئیں ۔ آنکھوں کےسامنےباس کا چہرہ گھوم گیا ۔ اور کانوں میں اس کی گرجدار آواز سنائی دی ۔

19 Oct 2005

افسانہ

ٹوٹی چھت کا مکان

از:۔ایم مبین

وہ گھر میں اکیلا اور بیزار بیٹھا تھا۔
کبھی کبھی تنہا رہنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہی۔ اکیلےبیٹھےبلاوجہ گھر کی ایک ایک چیز کو گھورتےرہنا۔
سوچنےکےلیےکوئی خیال یا موضوع بھی تو نہیں ہےکہ اسی کےبارےمیں غور کیا جائی۔
عجیب و غریب خیالات و موضوع ذہن میں آتےہیں۔ جن پر غور کرکےکچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا ہی۔

8 Oct 2005
افسانہ ٠٣ بچوں کی ماں از:۔ایم مبین

گھر سےنکلنےمیں صرف ٠١ منٹ کی تاخیر ہوئی تھی اور سارےمعمولات بگڑ گئےتھے۔
اُسےاندازہ ہوگیا تھا کہ اب وہ پورےایک گھنٹہ تاخیر سےڈیوٹی پر پہونچےگی اور اِس ایک گھنٹہ میں کیا کیا فسانےبن گئےہوں گے' اُسےاِس بات کا اچھی طرح اندازہ تھا ۔
سندھیا سےکسی بات کی توقع نہیں تھی کہ وہ کچھ ایسا کرےجس سےکوئی نئی کہانی نہ بن پائے۔

2 Oct 2005

Ibrahim Ashk on M.Mubin

Submitted by mmubin

ایم ۔ مبین معنویت کی بسنت کا سنت

ابراہیم اشک

کہانی کار ایم ۔ مبین سےمیری پہچان ٩٧٩١ ءمیں ہُوئی ‘ جب ادارہ شمع کو چھوڑ کر میں نےسریتا گروپ کی ملازمت اِختیار کی تھی ۔ اُن دِنوں ایم ۔ مبین کی کہانیاں ” سریتا “ ،” مکتا“ اور ” گرہ شوبھا “ میں کثرت سےشائع ہوتی تھیں ۔ وہ کہانیاں پڑھ کر مجھےاِس بات کا احساس ہونےلگا تھا کہ آگےچل کر یہ کہانی کار ادب میں اپنا کوئی مقام ضرور بنائےگا ۔ اِس بات کو اب چوبیس برس گذر چکےہیں اور ان چوبیس برسوں میں اپنا مقام ادب میں بنانےمیں کامیاب ہوگئےہیں ۔ یہ مقام اُنھوں نےہندی ادب میں بھی بنایا ہےاور اُردو ادب میں بھی ۔ ایسا بہت کم ہوتا ہےکہ کسی ایک زبان کا شاعر ، ادیب یا کہانی کار بیک وقت دو زبانوں کےادب میں اپنا ایک منفرد مقام پیدا کرنےمیں کامیاب ہوجائے۔ ایسےقلم کار اُنگلیوں پر گنےجاسکتےہیں اور یہ بڑی بات ہےکہ ایم ۔ مبین کا نام ان میں شامل ہے۔ جہاں اُردو میں ان کےافسانوں کا مجموعہ” ٹوٹی چھت کا مکان “ ادب میں مقبول ہُوا ہے‘ وہیں دُوسری اور ہندی زبان میں اُن کےافسانوں کا مجموعہ ” یاتنا کا ایک دِن “ عصری ادب کا سنگ ِ میل بن گیا ہے۔ جس پر ایم ۔ مبین کو پچاس ہزار رُوپےکا خصوصی انعام بھی بغیر کسی جوڑ توڑ کےمل چکا ہےاور اِس بات پر جتنا بھی فخر کیا جائے‘ کم ہے۔ کیونکہ آج کل زیادہ تر ایوارڈ یا تو خریدےجاتےہیں یا اقرباءپروری کےشکار ہوتےہیں ۔ ایم ۔ مبین کا دامن اس بندر بانٹ سےقطعی پاک صاف ہے۔ یہ اِس بات کی دلیل ہےکہ اُن کےافسانےاِتنےکھرےاور سچّےہیں کہ جھوٹ ، فریب اور مکّاری کےاِس دور میں بھی اپنا اثر دِکھائےبغیر نہیں رہ سکتے۔ یہ اُن کےقلم کی جیت نہیں تو اور کیا ہے؟

Subscribe to RSS - mmubin's blog