Blogs

2 Oct 2005

Ibrahim Ashk on M.Mubin

Submitted by mmubin

ایم ۔ مبین معنویت کی بسنت کا سنت

ابراہیم اشک

کہانی کار ایم ۔ مبین سےمیری پہچان ٩٧٩١ ءمیں ہُوئی ‘ جب ادارہ شمع کو چھوڑ کر میں نےسریتا گروپ کی ملازمت اِختیار کی تھی ۔ اُن دِنوں ایم ۔ مبین کی کہانیاں ” سریتا “ ،” مکتا“ اور ” گرہ شوبھا “ میں کثرت سےشائع ہوتی تھیں ۔ وہ کہانیاں پڑھ کر مجھےاِس بات کا احساس ہونےلگا تھا کہ آگےچل کر یہ کہانی کار ادب میں اپنا کوئی مقام ضرور بنائےگا ۔ اِس بات کو اب چوبیس برس گذر چکےہیں اور ان چوبیس برسوں میں اپنا مقام ادب میں بنانےمیں کامیاب ہوگئےہیں ۔ یہ مقام اُنھوں نےہندی ادب میں بھی بنایا ہےاور اُردو ادب میں بھی ۔ ایسا بہت کم ہوتا ہےکہ کسی ایک زبان کا شاعر ، ادیب یا کہانی کار بیک وقت دو زبانوں کےادب میں اپنا ایک منفرد مقام پیدا کرنےمیں کامیاب ہوجائے۔ ایسےقلم کار اُنگلیوں پر گنےجاسکتےہیں اور یہ بڑی بات ہےکہ ایم ۔ مبین کا نام ان میں شامل ہے۔ جہاں اُردو میں ان کےافسانوں کا مجموعہ” ٹوٹی چھت کا مکان “ ادب میں مقبول ہُوا ہے‘ وہیں دُوسری اور ہندی زبان میں اُن کےافسانوں کا مجموعہ ” یاتنا کا ایک دِن “ عصری ادب کا سنگ ِ میل بن گیا ہے۔ جس پر ایم ۔ مبین کو پچاس ہزار رُوپےکا خصوصی انعام بھی بغیر کسی جوڑ توڑ کےمل چکا ہےاور اِس بات پر جتنا بھی فخر کیا جائے‘ کم ہے۔ کیونکہ آج کل زیادہ تر ایوارڈ یا تو خریدےجاتےہیں یا اقرباءپروری کےشکار ہوتےہیں ۔ ایم ۔ مبین کا دامن اس بندر بانٹ سےقطعی پاک صاف ہے۔ یہ اِس بات کی دلیل ہےکہ اُن کےافسانےاِتنےکھرےاور سچّےہیں کہ جھوٹ ، فریب اور مکّاری کےاِس دور میں بھی اپنا اثر دِکھائےبغیر نہیں رہ سکتے۔ یہ اُن کےقلم کی جیت نہیں تو اور کیا ہے؟

30 Sep 2005
مایل بکرم ہیں راتیں
آنکھوں سے کہو کچھ مانگیں
خوابوں کے سوا جو چاہیں
شہریار
قرۃ العین حیدر کی نذر
’’پی چو۔ ہمارے سارے آیڈیلس!‘‘ رخشندہ نے آہستہ سے کہا۔ پھر اسے ہی محسوس ہوا کہ اس نے کتنی بیکار بے معنی لغو بات کہی ہے۔‘‘
(میرے بھی صنم خانے۔ ص۔ 2(20
حصہ اول:
ستارے اور دھند
ہم نے موتی سمجھ کے چوم لیا
25 Sep 2005

ABOUT ALI IMRAN

Submitted by Prince Of Dhump

ALI IMRAN / X-2
The titular spymaster Ali Imran is a man in his twenties (27 to be precise) who is the chief of the “Secret Service” (an organization which is dedicated to protect the country from spies and criminals belonging to other countries). He is known to his subordinates in his organization as X-2. Although, they are not aware that Imran is X-2. No one has ever seen X-2, since he rarely appears in front of them and when he appears he is wearing a black mask and black tight clothes that completely obscures his face, and being an expert at changing identities, he also completely changes his voice before addressing them. The rest of the time X-2 either contacts his subordinates through transmitter or telephone. Imran also happens to be the only son of the Director General of the Police, Mr. Rehman. Imran was appointed by and reports directly to the Defense Minister, who is the only government official other than the Prime minister, who is one of the only three persons aware of Imran's true identity as X-2

Pages

Subscribe to RSS - blogs