غزل - ۲۴
Submitted by hasanshafiq89 on Wed, 2005-06-15 07:33.
|
گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا |
گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیٴ جا کا |
| فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اُس کو یاد اسد جفا میں اس کی ہے انداز کارفرما کا * * * * قطرہٴ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا خطِ جامِ مے سراسر، رشتہٴ گوہر ہوا اعتبارِ عشق کی خانہ خرابی دیکھنا غیر نے کی آہ، لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا * * * * |
|
