افسوس کہ دنداں کا کیا ر زق فلک نے جن لوگوں کی تھی درخور عقدِ گہر انگشت کافی ہے نشانی تری، چھلے کا نہ دینا خالی مجھے د کھلا کے بہ و قتِ سفر انگشت لکھتا ہوں اسد سوزش دل سے سخنِ گرم تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت * * * *